بالاگھاٹ،06؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مدھیہ پردیش کیضلع بالاگھاٹ میں مئی میں ایک بچی کے قتل کیس کا انکشاف کرتے ہوئے اس کے سگے بھائی کو بچی کے ساتھ زیادتی اور اس کے بعد اس کا قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔اڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ آکاش بھوریا نے آج بتایا کہ کھیرلانجی میں ہوئے اس معاملے میں ملزم روندر بنوٹے (24) کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے پولیس اسیپوچھ گچھ کے لیے ریمانڈ پر لیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چار مئی کو بچی کے والد سنتوش بنوٹے نے کھیرلانجک تھانہ میں رپورٹ درج کراتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی لڑکی ایک مئی سے لاپتہ ہے اور اسے کوئی نامعلوم شخص بہلا پھسلا کرلے گیا ہے۔پولیس نے نامعلوم بدمعاش کے خلاف جرم رجسٹرڈ کرکے اس کی تفتیش شروع کردی ہے۔تفتیش کے دوران سات مئی کو بچی کی لاش گاؤں کے ڈبہ تالاب کے پاس جھاڑیوں میں برآمد ہوئی۔پوسٹ مارٹم میں موت کی وجہ گلا گھوٹنا بتایا گیا۔
پولیس کو پوچھ گچھ کے دوران اس کے سگے بھائی روندر پر شک ہوا اور اس سے سختی سے پوچھ گچھ کی گئی۔ پوچھ گچھ کے دوران اس نے قبول کیا کہ اس نے پہلے اپنی سگی بہن کے ساتھ آبروریزی کی اور بعد میں اسے چاقو مارنے کے علاوہ گلا گھوٹ کر قتل کر دیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ کھیرلانجی تھانے میں بچی کے لواحقین جب اس کی گمشدگی کی رپورٹ لکھوانے پہنچے تھے، تب ملزم بھی ان کے ساتھ آیا تھا۔ اس اندھے قتل کاخلاصہ کرنے اور ملزم کا پتہ لگانے کے لئے آئی جی بالاگھاٹ نے 30 ہزار روپے کا نقد انعام کا اعلان کیا تھا۔